Celebrating Holi with orphans, disabled people and senior citizens – Dr. Anita Reddy
ہولی کا جشن یتیم بچوں، معذور افراد اور بزرگوں کے ساتھ – ڈاکٹر انیتا ریڈی
ہنمکنڈہ:-15 /مارچ
(دستور نیوز ڈاٹ کام)
انورگ ہیلپنگ سوسائٹی کی چیئرپرسن، کاکتیہ یونیورسٹی کی گورننگ باڈی ممبر، سول سپلائی ڈیپارٹمنٹ کی ویجیلنس ممبر اور ورلڈ وائیڈ کنزیومر رائٹس اینڈ پروٹیکشن کی نیشنل وائس چیئرپرسن، ڈاکٹر انیتا ریڈی نے آج ہولی کا تہوار خصوصی طور پر معذور بچوں، یتیموں اور بزرگوں کے ساتھ منایا۔
یہ تقریب ہنمکنڈہ کے بالاسمدرم میں واقع ملکامبا منوویکاس کیندر اور آنند نیلایم کے بچوں کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس کے علاوہ، صوبیداری میں معذور لڑکیوں کے آشرم اور بھیمرام میں لارڈ اولڈ ایج ہوم میں مقیم بزرگوں کے ساتھ بھی ہولی کا جشن جوش و خروش سے منایا گیا۔ڈاکٹر انیتا ریڈی نے قدرتی اور غیر کیمیکل والے رنگوں سے ایک دوسرے پر رنگ لگا کر ہولی کی خوشیوں کو بانٹا اور تہوار کی مبارکباد دی۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہولی ایسا تہوار ہے جو ہر عمر کے لوگوں میں جوش و خروش پیدا کرتا ہے اور یہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور محبت کی علامت ہے۔ انہوں نے خاص طور پر معذور افراد، یتیم بچوں اور بزرگوں کے ساتھ ہولی منانے پر مسرت کا اظہار کیا۔ڈاکٹر انیتا ریڈی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کیمیائی رنگوں کے بجائے ہربل اور قدرتی رنگوں کا استعمال کریں، کیونکہ مصنوعی رنگ جلدی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں اور آنکھوں میں جانے سے بینائی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ہولی تہووار کے اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہولی کے دوران انڈے یا دیگر مائع اشیاء کے غیر ضروری استعمال سے گریز کرنے کی بھی ہدایت دی اور کہا کہ اگر احتیاط برتی جائے تو یہ تہوار خوشیوں سے بھرا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ تہوار کا اصل مطلب صرف اپنی خوشی نہیں بلکہ دوسروں کے چہروں پر بھی مسکراہٹ بکھیرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یتیم بچوں اور بزرگوں کے چہروں پر خوشی دیکھ کر انہیں دلی سکون اور تسکین ملی۔اس موقع پر ڈاکٹر انیتا ریڈی کے ہمراہ بندا رام لیلا، کوڈم کلیان، ناگرانی نریش اور دیگر افراد بھی موجود تھے۔