muslims politics vote bank congress brs bjp

Muslims are constantly being ignored in Warangal politics, Muslims are limited to vote bank. Mohammad Abdul Quddus

اضلاع کی خبریں تلنگانہ
Muslims are constantly being ignored in Warangal politics, Muslims are limited to vote bank. Mohammad Abdul Quddus
ورنگل کی سیاست میں مسلمانوں کو مسلسل نظرانداز کیا جانے لگا، مسلمان صرف ووٹ بینک تک محدود۔ محمد عبدالقدوس

 

حیدرآباد/ورنگل:-6/فروری
(دستور نیوز ڈاٹ کام)

ضلع ورنگل جو اپنی تاریخی ثقافت، ورثے اور سیاسی اہمیت کے لیے جانا جاتا ہے، وہاں مسلم کمیونٹی کی سیاسی صورتحال مایوس کن نظر آتی ہے۔ ٹی آر ایس سینر قائد محمدعبدالقدوس نے صحافتی بیان جاری کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ ضلع ورنگل کی بڑی مسلم آبادی کو مسلسل فیصلہ سازی کے عمل سے باہر رکھا جا رہا ہے۔ سیاسی پارٹیاں انتخابات کے دوران ان کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے بھرپور مہم چلاتی ہیں، لیکن جب حقیقی نمائندگی اور عملی اقدامات کی بات آتی ہے تو مسلمانوں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

ووٹ بینک مگر قیادت سے محروم

مسلمانوں کی تعداد اور سیاست میں ہونے والی ناانصافی پر انہوں نے کہا کہ ورنگل میں مسلمان ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں اور کئی حلقوں خصوصاً ورنگل ایسٹ، ورنگل ویسٹ اور قریبی علاقوں میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انتخابات سے قبل سیاسی جماعتیں ان سے پرکشش وعدے کرتی ہیں لیکن انتخابات کے بعد ان وعدوں کو بھلا دیا جاتا ہے۔

muslims politics vote bank congress brs bjp
MAYOOS AOUR PARESHAN HAAL MUSALMAN

تلنگانہ کی 119 اسمبلی نشستوں میں سے تقریباً 40 سے 50 حلقوں میں مسلمانوں کا ووٹ بینک خاصا مؤثر ہے۔ اس کے باوجود بڑی سیاسی جماعتیں مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے میں پس و پیش کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، کانگریس پارٹی نے گزشتہ 15 سالوں میں ورنگل سے کسی بھی مسلم امیدوار کو اسمبلی کا ٹکٹ نہیں دیا۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مسلمانوں کو محض ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، مگر قیادت کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

سیاسی مسائل کے علاوہ دیگر چیلنجز پر انہوںنے کہا کہ ورنگل کے مسلمانوں کے مسائل صرف سیاسی نظراندازی تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ تعلیم، روزگار، صحت اور بنیادی سہولیات کے فقدان جیسے مسائل سے بھی دوچار ہیں۔ کئی علاقوں میں معیاری اسکول اور اسپتالوں کی کمی ہے، روزگار کے مواقع محدود ہیں، اور کاروباری شعبے میں بھی ان کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ حکو مت ، سرکاری محکموں و و انتظامیہ تک مسلمانوں کی رست بھی ہو نہی پاتی اور بدبختی یہ ہیکہ اربابِ اختیار ان مسائل پر توجہ دینے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں۔

سیاسی شعور کی ضرورت اور اسکی اہمیت پر عبدالقدوس نے کہا کہ ایسی صورتحال میں مسلمانوں کو اپنی اجتماعی طاقت کا ادراک کرنا ہوگا اور نمائندگی کے حصول کے لیے متحرک ہونا ہوگا۔ جب تک وہ محض ووٹ دینے کے کردار تک محدود رہیں گے، انہیں قیادت کے مواقع نہیں ملیں گے۔

muslims politics vote bank congress bjp brs
KIYA KAREIN, KIYA NA KAREIN TAZABZUB MEIN PARESHAN LACHAAR HAIN MUSALMAN

انہوں نے مسلمانو ں کو بیدار کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ،اب وقت آ چکا ہے کہ مسلمان اپنے انتخابی وزن کو استعمال کرتے ہوئے فیصلہ سازی میں شمولیت کا مطالبہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیاستی جماعتیں مسلمانوں کی مسلم شعبوں میں ہی کچھ عہدے دیکر مسلمانوں کو خاموش کردتے ہیں لیکن ہونا تو چاہئے کہ وہ عہدے جو مسلم شعبوں سے تعلق نہیں رکھتے ان نامزد عہدے جیسے ایم ایل سی، ریاستی چیر مین ، مئیر ، ڈیپوٹی مئیر کے عہدوں پر بھی مسلمانوں کو حصہ داری دیں۔

محمد عبدالقدوس نے کہا کہ اگرمسلمان متحد ہو کر ان رہنماؤں کا انتخاب کریں جو ان کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہوں، تو مثبت تبدیلی ممکن ہو سکتی ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا اصل سوال یہ ہے کہ ورنگل کے مسلمان کب تک محض ایک ووٹ بینک بنے رہیں گے؟ اگر وہ سیاسی شعور بیدار کریں، اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں، اور ایسی قیادت کی حمایت کریں جو ان کے مفادات کی حقیقی نمائندگی کرے، تو وہ اپنے سیاسی مستقبل کو مستحکم بنا سکتے ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بہتر حالات فراہم کر سکتے ہیں۔