بلدیہ افسران وارڈوں میں صفائی کے کام کو سنجیدگی اور منظم طریقہ سے عمل کریں-
جی ڈبلیو ایم سی کمشنر شیخ رضوان باشا
ورنگل:-29/جنوری
(دستور نیوز ڈاٹ کام)
صفائی، ٹیکس وصولی، ٹاؤن پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کے مسائل کا جائز ہ لیتے ہوئی جی ڈبلیو ایم سی کے کمشنر شیخ رضوان باشا نے کہا کہ ہر وارڈ میں صفائی کے کام کو منظم کرنے کے لیے خصوصی افسران تعینات کیے جا رہے ہیں۔ کمشنر نے بروز پیر بلدیہ ہیڈ کوارٹر کے کونسل ہال میں منعقدہ پروگرام میں شرکت کی اور صفائی، ٹیکس وصولی اور ٹاؤن پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کے پہلوؤں کا جائزہ لیا اور موثر انتظام کے لیے مناسب تجاویز دیں۔
اس موقع پر کمشنر نے کہا کہ ہر وارڈ میں روزانہ 30-40 صفائی کارکن ڈیوٹی پر ہوں، ضم شدہ دیہاتوں میں فیلڈ لیول پر 40 افراد ڈیوٹی پر ہوں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ وہ سرپرائز انسپکشن بھی کریں گے، ڈیوٹی پر نہ آنے کی صورت میں کارروائی کی جائے گی اور وہ اپنی ڈیوٹی پوری ذمہ داری سے انجام دیں۔
سینیٹری انسپکٹرز کو اس بات کا کم از کم علم ہونا چاہیے کہ ان کے ڈویژنوں میں کتنے کلین آٹوز چل رہے ہیں، تجارتی ڈھانچوں کی تجاوزات اور پارکنگ سے متعلق معلومات کے ساتھ منصوبہ بندی کریں، ایسے عمارات جو اجارت ناموں سے تجاوز کرگئے ہیں ان تجاوزات کو مسمار کرنے کا کام کریں- TS-Bpass کی معلومات کے مطابق تعمیرات جانچ ہو- ریونیو افسران اور بل جمع کرنے والوں کو ٹیکس اس کے مطابق وصولی کرنے، تجارتی وصولیوں میں ہدف کا بنائیں اور اس تک پہنچیں –
ٹیکس ادا نہ کرنے پر دکانوں کو بند کریں ، پانی کے کنکشن بقایہ بل کے سرفہرست 100 بقایا جات کی نشاندہی کر یں اور ان کی وصولیوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے ایک خصوصی سرگرم پروگرام تیار کریں، ٹیکس وصولیوں کے لیے اگلے 2 ماہ انتہائی اہم ہیں، ہر وارڈ کے لیے ایک اسپیشل آفیسر، ایک بل کلکٹر مقرر کریں- انہوں نے کہا کہ مختلف ٹیکسوں کی وصولی کی رفتار میں اضافہ یقینی بنائیں گے۔
اس موقع پر کمشنر نے چیف ہیلتھ آفیسر ، سینیٹری انسپکٹرز اور سینیٹری سپروائزرز کے ساتھ روزانہ ٹیلی کانفرنس کرنے کا حکم دیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ صاف ستھرائی کے کام کو بہتر بنایا گیا ہے یا نہیں۔
اس پروگرام میں ایڈیشنل کمشنرس انیس الرشید، رویندر یادو، ایس ای کرشنا راؤ، پروین چندر، سی ایم ایچ او ڈاکٹر راجیش، سٹی پلانر وینکنا، ماہر حیاتیات مادھوا ریڈی، ڈی ایف او شنکر لنگم، ایچ او رمیش، ڈپٹی کمشنرز رویندر، کرشنا ریڈی اور دیگر نے شرکت کی۔