BRS Stages Strong Protest Over Delay in Completion of Warangal Super Specialty Hospital;
Harish Rao Warns of Hunger strike
>>>ورنگل سپر اسپیشالیٹی اسپتال کی تکمیل میں تاخیر پر بی آر ایس کا شدید احتجاج،
ہریش راؤ کا بھوک ہڑتال کا انتباہ


حیدرآباد/ورنگل، 24 فروری
دستور نیوز ڈاٹ کام
ورنگل میں زیرِ تعمیر سپر اسپیشالیٹی اسپتال کے کاموں میں تاخیر پر بی آر ایس نے کانگریس حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سابق وزیر اور بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اے ریونتھ ریڈی کو ’’فیوچر سٹی‘‘ جیسے ریئل اسٹیٹ منصوبوں پر توجہ ہے، مگر غریبوں کی جان بچانے والی ورنگل کی ’’ہیلتھ سٹی‘‘ پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔

ہریش راؤ نے دیگر بی آر ایس قائدین کے ہمراہ سپر اسپیشالیٹی اسپتال کے تعمیراتی کاموں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر سابق وزراء ایرّا بیلی دیاکر راؤ، ستیّاوتی راتھوڑ، ایم ایل سیز دیشپتی سرینواس، راویندر راؤ، سابق رکن پارلیمنٹ کے کویتا، سابق ارکان اسمبلی تاٹیکونڈا راجیا، داسیم ونئے بھاسکر، پیڈی سدرشن ریڈی، اروری رمیش، ننّاپونینی نریندر، شنکر نائک اور دیگر مقامی قائدین و کارکنان موجود تھے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت دانستہ طور پر اسپتال کی تعمیر میں سستی برت رہی ہے تاکہ سابق وزیر اعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ کو اس کا کریڈٹ نہ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دورِ حکومت میں 24 منزلہ عمارت کا سلیب مکمل ہو چکا تھا اور 2024 کی دسہرہ تک اسپتال کا افتتاح ہونا تھا، مگر حکومت کی تبدیلی کے بعد کام سست روی کا شکار ہو گیا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر فوری طور پر اسپتال کی تعمیر مکمل کرکے مکمل طبی عملہ اور ضروری آلات فراہم نہ کیے گئے تو بی آر ایس ورنگل میں ہی بھوک ہڑتال شروع کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ 2000 بستروں پر مشتمل اس اسپتال کے لیے تقریباً 2000 نرسیں، 1500 ڈاکٹرس اور 1000 پیرا میڈیکل عملہ درکار ہوگا، مگر اب تک بھرتیوں کے لیے کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔
ہریش راؤ نے دیوادولا پراجکٹ کے حوالے سے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈیڈ لائنز بار بار تبدیل کی جا رہی ہیں لیکن زمینی سطح پر کوئی خاص پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے اسمبلی میں آبپاشی منصوبوں پر کھلی بحث کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ مائیک بند کیے بغیر اور کیمرے ہٹائے بغیر عوام کے سامنے سچائی واضح کی جائے۔

ایم جی ایم اسپتال کی ابتر حالت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور میں جہاں مفت دل کے آپریشن کیے جاتے تھے، آج وہی اسپتال بدانتظامی کا شکار ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسپتالوں کی حالت فوری بہتر بنائی جائے، آؤٹ سورسنگ ملازمین کی زیر التواء تنخواہیں ادا کی جائیں اور صحافیوں کے لیے ہیلتھ اسکیم اور ایکریڈیشن کارڈس کے اجرا کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو بی آر ایس عوام کے ساتھ مل کر احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔
دستور نیوز ڈاٹ کام