state urdu conference warangal

State Urdu Teachers Conference held in Warangal with great success

اضلاع کی خبریں تلنگانہ
State Urdu Teachers Conference held in Warangal with great success. Emphasis on promotion of Urdu medium education, appointment of teachers and resolution of problems – satisfying assurances from special guests
ورنگل میں ریاستی اُردو ٹیچرس کانفرنس کا شاندار انعقاد ۔ اُردو ذریعۂ تعلیم کے فروغ، اساتذہ کی تقررات اور مسائل کے حل پر زور—مہمانانِ خصوصی کے اطمینان بخش تیقنات

 

حیدرآباد/ورنگل
(دستور نیوز ڈاٹ کام)

ضلع ورنگل کے ایل بی نگر میں واقع کرسٹل گارڈن فنکشن ہال میں آج اُردو ٹیچرس ایسوسی ایشن تلنگانہ (UTA-TS) کے زیرِ اہتمام ایک روزہ ریاستی اُردو ٹیچرس کانفرنس نہایت شاندار اور پُرجوش ماحول میں منعقد ہوئی۔ تلنگانہ کے تمام اضلاع سے بڑی تعداد میں اُردو اساتذہ نے شرکت کی۔ کانفرنس میں اردو ذریعۂ تعلیم کی مضبوطی، اساتذہ کے مسائل، مخلوعہ جائیدادوں کی تقررات اور جدید تدریسی سہولتوں کی فراہمی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

state urdu conference warangal

پروگرام کا باضابطہ آغاز تلاوتِ قرآن و نعت شریف سے ہوا۔ بعد ازاں معزز مہمانوں نے شمع روشن کرتے ہوئے کانفرنس کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں علمی، ادبی، سماجی اور مذہبی حلقوں کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی جس سے پروگرام کے وقار میں مزید اضافہ ہوا۔ کانفرنس کی صدارت ریاستی صدر جناب خواجہ قطب الدین نے کی، جبکہ پروگرام کی نگرانی محمد شکیل احمد اسٹیٹ جنرل سیکریٹری نے انجام دی۔کانفرنس کے کنوینر جناب خواجہ ظہیر الدین (صدر مدرس، سرکاری مدرسہ تحتانیہ عرس) تھے۔

تقریب میں شریک اہم شخصیات میں ایم ایل سی سری پنگلی سری پال ریڈی ، جناب سید غلام افضل بیابانی المعروف خسرو پاشاہ، سجادہ نشین بارگاہِ افضلیہ و چیئرمین تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی ،جناب طارق انصاری، چیئرمین میناریٹی کمیشن تلنگا نہ ڈاکٹر بہادر علی (سابق پرنسپل، اسلامیہ ڈگری کالج)میر کوکب علی ،ڈاکٹر انیس احمد صدیقی (صدر شانتی سنگم)مفتی منہاج احمد قیو می، خواجہ نجم الدین گیلانی ان کے علاوہ ریاست کے مختلف اضلاع سے نمائندہ اساتذہ نے بھرپور شرکت کی۔

state urdu conference warangal

مقررین نے اُردو زبان کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ:”اُردو صرف ذریعۂ تعلیم نہیں بلکہ ہماری تہذیب، ثقافت اور مشترکہ ورثے کی نمائندہ زبان ہے”۔انہوں نے اُردو میڈیم اسکولوں کی خستہ حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات کرنے کی اپیل کی۔

 

کانفرنس میں پیش کیے گئے اہم مطالبات میں اردو اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر فوری تقرراتاردو میڈیم اسکولوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمیTRT-2017 میں ڈی ریزرویشن کے مسئلے کا حل، اساتذہ کے پروموشن سے متعلق رکے ہوئے معاملات کی جلد یکسوئی ،جدید نصاب، تربیتی پروگرام اور تدریسی ٹیکنالوجی کے فروغ کا مطالبہ ، ایم ایل سی سری پال ریڈی نے اپنے خطاب میں کہا کہ:”اردو ہماری پہچان ہے۔ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ مستقبل میں ہر زبان پر عبور حاصل کر لیتے ہیں”۔انہوں نے اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن کے مطالبات کو بجا قرار دیتے ہوئے ان کے حل کی یقین دہانی بھی کرائی۔

state urdu conference

کانفرنس کے مختلف سیشنز میں اساتذہ نے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور اردو میڈیم طلبہ کی ترقی کے لیے اہم تجاویز پیش کیں، جن میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ،نئی تدریسی حکمتِ عملی ،سالانہ تربیتی پروگرام ڈراپ آؤٹ طلبہ کی اسکولوں میں واپسی ۔

تقریب کے دوران اردو میڈیا سے وابستہ نئے صحافیوں کی خدمات کے اعتراف میں خصوصی تہنیتی اسناد پیش کی گئیں۔ جن صحافیوں کو اعزاز دیا گیا ان میں شامل ہیں سید نظام الدین، مرزا فتح اللہ بیگ ریاض، حافظ صادق حسین اور محمد معشوق۔

 

state urdu conference warangal

پروگرام کی نظامت نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ سے انجام دیئے جانے کا سہرا محمد خواجہ مہیمن الدین (ڈسٹرکٹ جنرل سیکریٹری)سید خواجہ فرید الدین (ایڈیشنل جنرل سیکریٹری) کو جاتا ہے اور آخر میں ریاستی صدر جناب خواجہ قطب الدین نے شریک مہمانان، اساتذہ اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ:”UTA-TS کا مقصد اُردو ذریعۂ تعلیم کو مضبوط بنیاد فراہم کرنا اور اردو اساتذہ کے وقار میں اضافہ کرنا ہے”۔انہوں نے ایسوسی ایشن کی سرگرمیوں کو مزید مضبوط خطوط پر استوار کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

—دستور نیوز ڈاٹ کام