The only alternative for capitalists is communists.
The country’s wealth has been concentrated in the hands of corporate powers Ambani, Adani””War fanaticism and religious fanaticism are dangerous for the country””Demand for judicial inquiry into Operation Kagar. Chadha Venkat Reddy
سرمایہ داروں کے لیے متبادل صرف کمیونسٹ ہیں ۔
ملک کی دولت کارپوریٹ طاقتوں امبانی، اڈانی کے ہاتھوں مرکوز ہو چکی ہے””جنگی جنون اور مذہبی جنون ملک کے لیے خطرناک ہیں””آپریشن کگار پر عدالتی تحقیقات کا مطالبہ ۔چاڈا وینکٹ ریڈی
حیدرآباد/ورنگل
(دستور نیوز ڈاٹ کام)
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کی ضلعی مہا سبھا کے دوسرے دن نمائندہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سی پی آئی کے قومی عاملہ رکن اور سابق رکن اسمبلی چاڈا وینکٹ ریڈی نے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام کا اصل متبادل صرف کمیونسٹ تحریک ہی ہے۔ انھوں نے بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جنگی جنونیوں اور مذہبی جنونیوں کی پالیسیوں نے ملک کو خطرناک موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت میں مرکز میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد اگرچہ فی کس آمدنی دوگنی ہوئی ہے، مگر عوام کی خریداری کی طاقت میں اضافہ کیوں نہیں ہوا؟ بیروزگار نوجوانوں کو روزگار کیوں نہیں ملا؟ کسانوں کو ان کی فصل کا منصفانہ دام کیوں نہیں ملا؟ یہ سوالات اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی دولت اب صرف امبانی اور اڈانی جیسے کارپوریٹ اداروں کے پاس مرکوز ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
انہوں نے بتایا کہ مودی کے اقتدار میں آنے سے قبل ملک پر قرض 50 لاکھ کروڑ روپے تھا، جو اب بڑھ کر 160 لاکھ کروڑ روپے ہو چکا ہے۔ پسماندہ طبقوں، کسانوں اور مزدوروں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے جبکہ بڑے سرمایہ داروں کے قرضے معاف کیے جا رہے ہیں، جن کی مالیت 16 لاکھ 35 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔چاڈا وینکٹ ریڈی نے مطالبہ کیا کہ سوامیناتھن کمیشن کی سفارشات کے مطابق کسانوں کو ان کی لاگت کا دوگنا منافع دیا جائے، جس پر صرف 119 لاکھ کروڑ کا خرچ آئے گا۔ بصورت دیگر، کسانوں کی خودکشی اور غذائی بحران جیسے خطرات بڑھ جائیں گے۔

انہوں نے آپریشن کگار پر بھی شدید تنقید کی اور اس کے خلاف عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے نام پر چھتیس گڑھ میں انقلابی کارکنوں کو فرضی انکاؤنٹر میں قتل کیا جا رہا ہے، جس کے بجائے حکومت کو امن مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سی پی آئی ایک محنت کشوں کی پارٹی ہے جو سو سالہ جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔ کئی سیاسی پارٹیاں وقت کے ساتھ ختم ہو گئیں، مگر سی پی آئی بغیر اقتدار کے بھی عوامی بھلائی کے لیے سرگرم ہے اور اپنی نظریاتی بنیاد پر قائم ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سی پی آئی کے قیام کے سو سال مکمل ہونے پر دسمبر 25 کو کھمم میں ایک عظیم عوامی جلسہ منعقد کیا جائے گا جس میں پانچ لاکھ افراد شریک ہوں گے امبیڈکر وادیوں اور کمیونسٹوں کا اتحاد وقت کی ضرورت تکللاپلی سرینواس راؤسی پی آئی کے ریاستی معاون سیکریٹری تکللاپلی سرینواس راؤ نے کہا کہ بی جے پی تیسری مرتبہ مرکز میں آ کر امبیڈکر کے آئین کو ختم کر کے منوواد کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت مسلمانوں، عیسائیوں اور کمیونسٹوں کو دشمن تصور کر رہی ہے اور ان پر حملے تیز کر رہی ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک میں اب امبیڈکر وادیوں اور کمیونسٹوں کو متحد ہونا ہوگا تاکہ آئین، جمہوریت اور عوام کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ فی کس آمدنی اور چوتھی بڑی عالمی معیشت جیسے سرکاری دعوے جھوٹ پر مبنی ہیں، اور کارپوریٹ اداروں کی آمدنی میں اضافے کے سوا ملک کے عام شہری کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں کانگریس پارٹی کے اقتدار میں آنے میں سی پی آئی کا بھی اہم کردار ہے۔
ورنگل کو دوسری ریاستی راجدھانی قرار دیا جائے۔ ی پی آئی نے مطالبہ کیا کہ حیدرآباد کے بعد ورنگل کو تلنگانہ کی دوسری راجدھانی قرار دے کر اس کی ترقی کو یقینی بنایا جائے۔ نیز، غریبوں کو ان کے مکانات کے لیے پلاٹس، اندیرا مکانات، کاجی پیٹ میں کوچ فیکٹری، سافٹ ویئر کمپنیاں اور مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے۔سی پی آئی ضلعی سیکریٹری میکلا روی نے پارٹی کی سرگرمیوں پر رپورٹ پیش کی، جبکہ مہمانِ خصوصی چاڈا وینکٹ ریڈی نے اجلاس سے تفصیلی خطاب کیا۔اس موقع پر سی پی آئی کا جھنڈا ریاستی رہنما تاتی پامولا وینکٹ راؤ نے لہرایا۔اجلاس میں دندو لکشمن، گنڈے بدری، اکی پلی رمیش، لیادلا شرتھ، توٹا چندرکلا، بی. وجے سارتھی، نیدونوری جیووتی، کررے بکشا پتی، سیرابوئینا کروناکر، پنجالا رمیش، سیدہ ولی اللہ قادری، این اے اسٹالن، ایس کے باشمیا، پناس پرساد، توٹا بکشا پتی، گنا رپو رمیش، بسّا رویندر، سنگی ایلنڈر، آرلی روی، دمرا کرشن، وی شنکریا، ایم ڈی خاسیم، پارثاسارتھی و دیگر رہنما شریک ہوئے۔