Telangana: Minister for Forests, Environment and Endowments Smt. Konda Surekha

Welfare of the backward classes is the primary objective of the Praja government of Telangana: Minister Smt. Konda Surekha

اضلاع کی خبریں تلنگانہ
Welfare of the backward classes is the primary objective of the Praja government of Telangana: Minister for Forests, Environment and Endowments Smt. Konda Surekha
پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود ہی تلنگانہ کی پراجا حکومت کا اولین مقصد ہے: وزیر جنگلات، ماحولیات و وقف محترمہ کونڈا سریکھا

حیدرآباد/ ورنگل:- 23 /جولائی
(دستور نیوز ڈاٹ کام)

ریاستی وزیر برائے جنگلات، ماحولیات و وقف محترمہ کونڈا سریکھا  نے کہا کہ تلنگانہ کی پراجا حکومت کا بنیادی مقصد غریب اور پسماندہ طبقات کی ہمہ جہت ترقی اور فلاح و بہبود ہے۔ وہ آج ورنگل مشرقی اسمبلی حلقے کے 12ویں ڈیویژن، دیشائی پیٹ ایس سی کالونی میں منظور شدہ اندیراَمّا مکانات کے تعمیراتی کاموں کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کر رہی تھیں۔

minster konda surekha

اس موقع پر محترمہ کونڈا سریکھا کے ہمراہ ضلع کلکٹر ڈاکٹر ستیہ شاردا، سابق ایم ایل سی کونڈا مرلی دھر راؤ، جی ڈبلیو ایم سی کمشنر چاهت باجپائی، مقامی کارپوریٹر کاویتی کویتا، ایڈیشنل کلکٹر سندھیارانی اور دیگر افسران موجود تھے۔
وزیر نے مستحقین میں اندر اَمّا ہاؤسنگ اسکیم کی منظوری دستاویزات تقسیم کیں اور تعمیراتی کاموں کی پیش رفت کا معائنہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ اسمبلی میں پہلے مرحلے میں 3500 مکانات منظور کیے گئے ہیں، اور دوسرے مرحلے میں مزید مستحقین کو شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی حکومت معاشی چیلنجز کے باوجود ان مکانات کی تعمیر کے لیے فنڈز کی فراہمی میں کوئی تاخیر نہیں کر رہی۔
وزیر نے کہا کہ پسماندہ طبقات کے لیے مختلف فلاحی اسکیمیں جیسے 200 یونٹس مفت بجلی، ایک روپیہ میں گیس سلنڈر، یوگادی سے راشن کے ذریعہ سستا چاول، آروگیہ شری کی حد 10 لاکھ روپے تک بڑھانا، خواتین کے لیے مفت آر ٹی سی بس سفر، نئے راشن کارڈز کی اجرائی جیسے اقدامات حکومت کی عزم کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاست بھر میں پہلے مرحلے میں 4 لاکھ 50 ہزار اندیراَمّا مکانات کو 22,500 کروڑ روپے کے بجٹ سے منظور کیا گیا ہے، اور یہ عمل آئندہ بھی جاری رہے گا۔
محترمہ سوریہ نے خواتین کی ترقی کے لیے "اندیرا مہیلا شکتی کینٹینز”، سولر پلانٹس، اور خود کفیل خواتین گروپس کو آر ٹی سی بسیں کرایہ پر دینے جیسے منصوبوں کا بھی اعلان کیا۔
اس موقع پر ضلع کلکٹر ڈاکٹر ستیہ شاردا نے بتایا کہ مکانات کی تعمیر کا کام تیز رفتاری سے جاری ہے۔ مستحقین کو براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں چار مراحل میں رقم منتقل کی جا رہی ہے تاکہ درمیانی افراد کے مداخلت کی گنجائش نہ رہے۔انہوں نے کہا کہ بیسمنٹ مکمل ہونے پر ₹1 لاکھ ، دیواریں مکمل ہونے پر ₹1.25 لاکھ، سلیب مکمل ہونے پر ₹1.75 لاکھ، دیگر کاموں کی تکمیل پر ₹1 لاکھ دیے جائیں گے۔ مزید یہ کہ حکومت تعمیر کے لیے مفت ریت بھی فراہم کر رہی ہے۔

سابق ایم ایل سی کونڈا مرلی دھر راؤ نے کہا کہ اندیراَمّا حکومت کمزور طبقات کی ترقی کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور مکانات کی منظوری کے عمل میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا دلالی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اس پروگرام میں اے سی پی شبھم، کارپوریٹر بسوراج کمار، بلدیہ کے ڈپٹی کمشنر پرسنّا رانی، سی ایم ایچ او ڈاکٹر راجارڈی، ایم ایچ او ڈاکٹر راجیش، تحصیلدار اقبال اور دیگر متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔