بی سی کمیشن چیئرمین گوپی شٹی نرنجن سے تلنگانہ میں مسلم کمیونٹی کو درپیش سماجی، اقتصادی اور سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کی ورنگل ملت رابطہ کمیٹی اور دیگر مسلم رہنماؤں کی جانب سے سفارش درخواست۔

حیدرآباد/ورنگل:-2/نومبر
(دستور نیوز ڈاٹ کام)
ہنمکنڈہ (IDOC) کلکٹریٹ میں بروز ہفتہ ریاست تلنگانہ پسماندہ طبقات کمیشن کے چیئرمین گوپی شیٹی نرنجن کی ٹیم نے ریاست تلنگانہ میں مقامی اداروں کے ذریعہ فراہم کئے جانے والے ریزرویشن کو حتمی شکل دینے کے مسئلہ پر عوامی سماعت کی۔
بی سی کمیشن کے چیئرمین نرنجن، ممبران راپولو جے پرکاش، تروملاگیری سریندر اور بالا لکشمی کی رہنمائی میں رائے اکٹھی کی گئی۔ اس پروگرام میں ہنمکنڈہ، ورنگل، ملگ، جنگائوں ضلع کلکٹرس پی۔ پروینیا، ڈاکٹر ستیہ شاردا، دیواکارا ٹی ایس، شیخ رضوان باشا، متعلقہ محکموں کے ضلعی عہدیداروں اور بی سی ذات کی انجمنوں کے قائدین نے شرکت کی۔

اس موقع پر کئی انجمنوں اور تنظیموں نے رہنماؤں نے اپنی رپورٹس کمیشن کو پیش کیں۔ بنیادی طور پر، وہ بلدیاتی انتخابات میں بی سی کے لیے 42 فیصد ریزرویشن فراہم کرنا چاہتے تھے۔ تاہم ایک ہی وقت میں چار اضلاع سے ایسوسی ایشن کے نمائندوں کی سفارشات سن نے کیلئے وقت کی کمی محسوس کی گئی اور کچھ دیر کیلئے وہاں الجھن والا ماحول اور عجب صورت حال پیدا ہوگئی تھی اور پھر امور بھال ہوگئے۔
اس موقع پر ورنگل ملت رابطہ کمیٹی کی جانب سے تلنگانہ میں مسلم کمیونٹی کی بہتری کے لیے پسماندہ طبقات (BC) کمیشن کے چیئرمین گوپی شیٹی نرنجن کو نمائندگی پیش کی گئی۔
اس موقع پر پسماندہ طبقات کمیشن کے چیئرمین سے بات کرتے ہوئے ملت رابطہ کمیٹی کے ارکان اور کانگریس پارٹی اور بی آر ایس پارٹی کے قائدین نے کمیشن سے مطالبہ کیا کہ مسلم طبقہ سماجی اور اقتصادی چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے جس کو حل کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں ہماری ترقی کے لیے حکومت کا تعاون ضروری ہے۔

اس نمائندگی کے ذریعے بی سی کمیشن چیئرمین کو یہ بتایا گیا ہے کہ مسلم کمیونٹی کی سماجی- اقتصادی پسماندگی، خاص طور پر BC-B، BC-E، اور OC زمروں میں، سماجی- اقتصادی طور پر کمزور ہے اور مناسب تعلیمی، روزگار، اور سماجی وسائل تک رسائی کا فقدان ہے۔
اس موقع پر ملت رابطہ کمیٹی کے نمائندوں نے چیئرمین سے درخواست کیا کہ مستقبل کے مردم شماری کے ریکارڈ میں ان طبقات کی الگ الگ شناخت کی جائے تاکہ ان کے حالات کو درست طریقے سے ظاہر کیا جا سکے۔
زیر التواء شعبوں میں ریزرویشن بار ہا اپیلوں کے باوجود مسلم کمیونٹی کے تحفظات اہم شعبوں میں زیر التوا ہیں۔ ہماری ادبا درخواست ہے کہ زیر التواء ریزرویشن کوٹے کو جلد از جلد مختص کیا جائے تاکہ منصفانہ نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے اور کمیونٹی کے مرکزی دھارے کی ترقی میں انضمام کی حمایت کی جا سکے۔
کمیشن سے نمائندے گی میں اس بات کو واضح طور پر عیاں کیا گیا کہ مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی سیاسی میں تحفظات کا تعین ہو تاکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہماری کمیونٹی کی آوازوں اور خدشات کی مناسب نمائندگی ہو، ہم سیاسی میدانوں میں مسلم کمیونٹی کے لیے مخصوص تحفظات متعارف کرانے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ یہ قدم ہماری نمائندگی کو مضبوط کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مسلم کمیونٹی کو متاثر کرنے والے مسائل کو پالیسی سازی کی سطح پر حل کیا جائے۔ اس کے علاوہ سرکاری اسکیموں میں مناسب نمائندگی کرنے کی حکومت سے درخواست کی گئی۔
تمام موجودہ اور مستقبل کی فلاحی اسکیموں میں مسلم کمیونٹی کے لیے وسائل کا مناسب فیصد مختص کریں۔ اس سے تعلیم، ہنرمندی کی ترقی، روزگار، صحت کی دیکھ بھال اور سماجی بہبود میں حکومتی اقدامات تک مساوی رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
تعلیمی، معاشی، سماجی اور سیاسی بااختیار بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مسلم کمیونٹی کی ترقی کے لیے ایک جامع، کمیونٹی پر مبنی نقطہ نظر کی درخواست کی گئی۔ ان مطالبات کی یکسوئی ہو جائے گی اور ایک بہتر اور زیادہ مساوی مستقبل کے لیے ہماری امنگوں کی بھرپور حمایت کوشش ہوگی۔
اس موقع پر پسماندہ طبقات کمیشن سے گزارش کی گئی کہ ان سفارشات پر ہمدردی اور دور اندیشی کے ساتھ غور کرے اور مسلم کمیونٹی کی سماجی، اقتصادی اور سیاسی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

اس موقع پر سابقہ کارپوریٹر ایڈوکیٹ ابوبکر،سابقہ کارپوریٹر بی آر ایس قاید سید مسعود، ٹی آر ایس سینیر قائد محمد عبدالقدس، ایم آئی ایم کے ضلع کنوینر محمد عبدالسبحان، کانگریس قا ید ایڈوکیٹ مدثر احمد قیومی، ٹی آر ایس قائد محمود، مفتی منہاج قیومی، محمد اعجار صدر جامعہ مسجد مدراسی منڈی بازار، محمد اظہر کے علاوہ دیگر قائیدین و ذمہ داران و دانشوران ورنگل موجود تھے۔