Consultative meeting of Muslims in Warangal titled Movement for Muslim Unity and Development

Consultative meeting of Muslims in Warangal titled Movement for Muslim Unity and Development

اضلاع کی خبریں
ورنگل میں مسلمانوں کا مشاورتی اجلاس بعنوان تحریک برائے مسلم اتحاد و ترقی

حیدرآباد/ورنگل:-30/ستمبر
(دستور نیوزڈاٹ کام)

ضلع ورنگل وہ ہنمکنڈہ کے سینیئر سماجی و سیاسی قائد محمد عبد السبحان کی جانب سے بلائے گئے مسلمانوں کا اجلاس جس کا عنوان تحریک برائے مسلم اتحاد و ترقی، مسلم کمیونٹی سینٹر ، ملگ روڈ ورنگل میں انعقاد عمل میں آیا ۔اس تحریک کے قیام کا مقصد مسلم کمیونٹی کی تعلیمی ترقی، جان ومال، ان کے املاک، مدارس اور مساجد، مذہبی املاک ( اوقاف) اور مسلم مفادات کا قانونی دائرے میں تحفظ فراہم کرنا ہے۔

Consultative meeting of Muslims in Warangal titled Movement for Muslim Unity and Development.

تحریک برائے مسلم اتحاد و ترقی کے نام سے ایک مہم جاری ہے اس مہم کا مقصد پچھلے کچھ سالوں سے پورے ملک کے لوگ دیکھ رہے ہیں کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی حکمرانی میں ملک کے غریب، کمزور ، پسماندہ اور مسلم عوام کے ساتھ کیسا سلوک کر رہی ہیں۔ دوسری طرف، امیر مزید امیر ہو رہے ہیں جبکہ غریب صرف غربت میں ہی دھنسے ہوئے روٹی کپڑا اور مکان کے لیے ترس رہے ہیں۔ ہر کوئی ان حالات کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ خاص طور پر ہندوستانی معاشرے میں مسلمانوں کے ساتھ باہر سے آئے ہوئے تارکین وطن جیسا سلوک اور انہیں ”موب لنچنگ “ کے نام پر دوسرے درجے کے شہری تصور کیا جارہا ہے۔

ملک بھر میں نوجوانوں اور فسادی گروہوں کو اکسا کر فرقہ وارانہ فسادات کروائے جارہے ہیں، لوٹ مار اور قتل عام جاری ہے، جس سے مسلم کمیونٹی میں خوف و ہراس پھیلایا جارہا ہے۔ ہر جگہ لوگ اپنی خود اعتمادی اور حوصلے کو بر قرار رکھتے ہوئے ان واقعات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

ایسے حالات میں ، ہماری ایک تنظیم ہونا ضروری ہے تا کہ قانون کے مطابق متعلقہ حکام سے رابطہ کرے گی، صور تحال کو واضح کرے گی اور تعاون کے ساتھ معاشرے میں پر امن ماحول کے قیام کے لیے مناسب اقدام کرے گی۔مسلم کمیونٹی کی جان و مال ، ان کی املاک، مدارس اور مساجد ، مذہبی املاک ( اوقاف) اور مسلم مفادات کے تحفظ کے لیے انتظامات کرنے اور مناسب کاروائی کرنے کے لئے تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں ہر ایک کو پر امن طریقے سے رہنے کے مواقع اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ فی الحال، ہندوستانی مسلم کمیونٹی اتحاد کے فقدان کی وجہ سے تقسیم کا شکار ہے، جس کی وجہ آپسی اختلافات، غلط فہمیاں اور مذہبی رہنماؤں میں تقسیم کارجحان ہے۔ ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ افرا تفری کی صورتحال میں حکومتی اور غیر حکومتی قوتوں کی مداخلت کی نوعیت کیا ہے۔

Consultative meeting of Muslims in Warangal titled Movement for Muslim Unity and Development
Consultative meeting of Muslims in Warangal titled Movement for Muslim Unity and Development

مسلم قیادت کی مضبوطی اور ترقی کے لیے، جو کہ کمزور مالی حیثیت اور کسی بھی سیاسی جماعت میں اہمیت نہ ہونے کی وجہ سے بے بس ہیں، معاشرے کا اعتماد حاصل کرنا ضروری ہے۔

لہذا، ان حالات میں امت مسلمہ کو ایک مضبوط، دیانتدار اور خدمت خلق کی وفادار تنظیم کی ضرورت ہے، جس کے لئے بے لوث کارکن اور سیاسی قیادت ہو۔ معاشرے کو اس طرح منظم کیا جائے کہ معاشرے میں کسی بھی قسم کے مسائل اور جھگڑے متعلقہ ادارے کے اندر ہی حل ہو جائیں۔ خواہ کوئی خطرہ، مشکل یا باہمی اختلافات ہوں، مسلم کمیونٹی کو یقین ہو کہ ہماری تنظیم ان کی مدد کے لیے موجود ہے۔ ایک ایسی تنظیم قائم کی جانی چاہیے جو مسلم کمیونٹی کے پسماندہ، بے روز گار اور معاشی طور پر کمزور افراد کی سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سے مدد حاصل کرنے میں معاونت کرے، تاکہ ان کی معاشی، سماجی، اخلاقی اور سیاسی ترقی ہو سکے۔

یہ تنظیم نچلی ذاتوں، غریبوں، پسماندہ اور لاچار غیر مسلموں کی بھی ترقی میں کوشش اور مدد انجام دے گی تاکہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان غلط فہمیاں دور ہوں اور بھائی چارگی کے جذبات قائم ہوں۔ اس کے ذریعے تمام ذاتوں میں محبت اور بھائی چارے کے جذبات پروان چڑھیں گے اور سب کو ترقی کا موقع ملے گا۔ اس طرح تنظیم کو ایک قوت کے طور پر ابھرنا چاہیے جس پر معاشرہ بھروسہ کرے اور ہر معاملے میں تعاون حاصل ہو۔

Consultative meeting of Muslims in Warangal titled Movement for Muslim Unity and Development
Consultative meeting of Muslims in Warangal titled Movement for Muslim Unity and Development

تمام سیاسی جماعتوں کو تنظیم کی اہمیت کا احساس ہونا چاہیے، تا کہ وہ مسلم قوم کی تائید و حمایت کے منتظر ہوں۔ اس موقع پر ورنگل کے دانشور حضرات میں ایم اے سبحان، حبیب خان ، سید مسعود، سید شاہ یحیا پاشاہ قادری عرف شعیب بابا، محمد زبیر، محمد سلیم ، محمد انوار، محمد محمود، محمد الطاف حسین، اظہار خان، شیخ دستگیر، سید فیض اور دیگر موجود تھے۔