Hyderabad Degrees Man Dr Khaja Fareeduddin Sadiq at 72 |

Hyderabad’s ‘Degrees Man’ Dr Khaja Fareeduddin Sadiq Continues His Quest for Knowledge at 72

تلنگانہ قومی
Mohammed khader Mohiuddin Meets Dr. Fareeduddin Sadiq: Passion for Higher Education Remains Strong Even at 72
ڈاکٹر فریدالدین صادق سے محمد قادر محی الدین کی ملاقات، 72 سال کی عمر میں بھی اعلیٰ تعلیم کا جذبہ برقرار۔۔

حیدرآباد کے معروف ’ڈگری مین‘ ڈاکٹر خواجہ فریدالدین صادق سے این آر آئی محمد قادر محی الدین نے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور ان کے منفرد تعلیمی، ادبی، سماجی اور پیشہ ورانہ سفر کے بارے میں تفصیلات حاصل کیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر فریدالدین صادق نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار، تعلیم کے حصول، مختلف شعبوں میں حاصل کردہ ڈگریوں، ادبی سرگرمیوں اور سماجی خدمات کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی۔

72 سالہ ڈاکٹر خواجہ فریدالدین صادق کی رہائش گاہ میں داخل ہوتے ہی مختلف تعلیمی اسناد، ڈگریاں، اعزازات اور یادگاریں نظر آتی ہیں۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ علم حاصل کرنے، مطالعہ کرنے اور مختلف شعبوں کو سمجھنے میں گزرا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حیدرآباد میں انہیں ’ڈگری مین‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

محمد قادر محی الدین نے ملاقات کے دوران ڈاکٹر فریدالدین صادق کی تعلیمی زندگی اور ان کے غیر معمولی سفر کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ گفتگو کے دوران ڈاکٹر صادق نے بتایا کہ بچپن ہی سے انہیں کتابوں اور مطالعے کا شوق تھا۔ جب ان کے ہم عمر بچے کھیل کود میں مصروف رہتے، وہ حیدرآباد کی افضل گنج سنٹرل لائبریری کا رخ کرتے اور مختلف موضوعات کی کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے۔

1968 میں پہلی گریجویشن، پھر تعلیم کا مسلسل سفر

ڈاکٹر فریدالدین صادق نے بتایا کہ انہوں نے 1960 کی دہائی کے اوائل میں اسکولی تعلیم مکمل کی اور 1968 میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے بی کام اور بی ایڈ بھی مکمل کیا۔

تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی زندگی کا تجربہ حاصل کرنے کے لیے وہ سعودی عرب بھی گئے۔ وہاں ایئرلائنز کے شعبے میں کام کرنے کا موقع ملا۔ ہندوستان واپسی کے بعد انہوں نے ایئر ٹکٹنگ کا کورس کیا اور بعد میں سعودی عرب میں ایئر ٹکٹنگ آفیسر کے طور پر تقریباً چھ سال خدمات انجام دیں۔

ان کے مطابق 1968 سے 1988 کے دوران ملازمت اور دیگر مصروفیات کی وجہ سے ان کی تعلیم میں کچھ وقفہ آیا، لیکن تعلیم حاصل کرنے کا شوق کبھی ختم نہیں ہوا۔

مختلف سرکاری محکموں میں بھی خدمات انجام دیں

سعودی عرب سے واپسی کے بعد ڈاکٹر صادق نے ہندوستان میں مختلف سرکاری محکموں میں بھی خدمات انجام دیں۔ ان کے مطابق انہوں نے میونسپل کارپوریشن، اسٹیٹ ایکسائز ڈپارٹمنٹ، سیکریٹریٹ اور محکمہ مال سمیت مختلف سرکاری اداروں میں کام کیا۔

1988 میں انہوں نے قانون کی تعلیم کے لیے لا کالج میں داخلہ لیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی دلچسپی کے مطابق کئی دوسرے شعبوں میں بھی تعلیم حاصل کی۔

ان کی تعلیمی قابلیت میں B.Sc، B.Com، B.Ed، LLB، LLM، BCJ، اردو ادب، تاریخ، آثارِ قدیمہ، ماحولیاتی علوم، سوائل میکینکس، کمپیوٹر ہارڈویئر، RMP (BIUMS) سمیت متعدد شعبے شامل ہیں۔

انہوں نے مختلف مضامین میں ماسٹر ڈگریاں، ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی کی۔ ان کی آخری بتائی گئی پی ایچ ڈی 2005 میں مکمل ہوئی، تاہم ان کا تعلیمی سفر آج بھی جاری ہے۔

Hyderabad’s ‘Degrees Man’ Dr Khaja Fareeduddin Sadiq Continues His Quest for Knowledge at 72

72 برس کی عمر میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کا ارادہ

ڈاکٹر فریدالدین صادق نے محمد قادر محی الدین کو بتایا کہ عمر کے اس مرحلے پر بھی ان کا علم حاصل کرنے کا شوق برقرار ہے۔ اب وہ پوسٹ ڈاکٹریٹ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور دہلی یونیورسٹی سے اس سلسلے میں تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ان کے لیے تعلیم محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ زندگی بھر جاری رہنے والا ایک علمی سفر ہے۔

طب، قانون، صحافت اور دیگر شعبوں سے وابستگی

ڈاکٹر صادق کا تعلق صرف تعلیم حاصل کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ انہوں نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر بھی کام کیا۔ وہ طبی خدمات سے وابستہ رہے اور قانونی، صحافتی، تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔

انہیں مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بطور مہمان مقرر مدعو کیا گیا۔ انہوں نے وکلا کے لیے قانونی کیمپ بھی منعقد کیے جبکہ سماجی خدمات کے اعتراف میں مختلف اعزازات اور گولڈ میڈلز بھی حاصل کیے۔

وہ حیدرآباد اور تلنگانہ کے مختلف علاقوں میں مفت طبی کیمپ منعقد کرکے ضرورت مند افراد کو خدمات فراہم کرنے کا بھی منصوبہ رکھتے ہیں۔

شاعری اور تصنیف سے بھی گہرا تعلق

ڈاکٹر فریدالدین صادق کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی ادبی خدمات ہیں۔ انہیں شاعری، غزل، فکشن اور اسلامی ادب سے خصوصی دلچسپی ہے۔

انہوں نے اپنی پہلی کتاب 1999 میں لکھی اور اس کے بعد تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کے مطابق اب تک ان کی 46 کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔

2008 میں ان کا نام Limca Book of Records سے بھی وابستہ ہوا۔ ان کے مطابق انہوں نے ایک غزل کو 16,666 اشعار پر مشتمل صورت میں پیش کیا اور ایک ہی وقت میں 34 کتابیں جاری کیں۔

ان 34 کتابوں میں ان کی شاعری کے تقریباً 13 ہزار اشعار شامل تھے۔ ان کی ادبی تصانیف میں معاصر اسلامی ادب، شاعری اور فکشن بھی شامل ہیں۔

اردو حروفِ تہجی کے حوالے سے منفرد تجربہ

ڈاکٹر صادق نے اپنی شاعری میں اردو زبان کے تمام 36 حروفِ تہجی کو مختلف نظموں کے آغاز میں یکے بعد دیگرے استعمال کرنے کے منفرد تجربے کا بھی ذکر کیا۔

وہ ہندوستان کے مختلف شہروں کے علاوہ امریکہ اور برطانیہ سمیت بیرونِ ملک بھی شعری و ادبی پروگراموں میں شرکت کرچکے ہیں۔

اپنی زندگی اور ڈگریوں کے حوالے سے ان کا ایک شعر بھی قابلِ ذکر ہے:

’’رکھنے کو تو رکھتے ہیں بہت ڈگری صادق
پر سب کو دکھانے کا ارادہ نہیں رکھتے‘‘

علم کی تلاش آج بھی جاری

محمد قادر محی الدین کے ساتھ ملاقات کے دوران ڈاکٹر فریدالدین صادق کی گفتگو سے یہ بات نمایاں ہوئی کہ ان کے نزدیک علم حاصل کرنے کی کوئی آخری عمر نہیں ہوتی۔

72 سال کی عمر میں بھی وہ نئی تحقیق، تصنیف و تالیف اور اعلیٰ تعلیم کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔ مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ان کی علمی جستجو کا سفر جاری ہے اور اب ان کی نظر پوسٹ ڈاکٹریٹ پر ہے۔

این آر آئی محمد قادر محی الدین کی ان سے رہائش گاہ پر ہونے والی یہ ملاقات نہ صرف ایک غیر معمولی علمی شخصیت سے تعارف کا ذریعہ بنی بلکہ اس بات کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ علم کی طلب، مطالعے کا شوق اور کچھ نیا سیکھنے کی خواہش عمر کی پابند نہیں ہوتی۔۔

dastoornews