Modi should explain Trump’s role, Parliament session should be called on Pahalgam attack, struggle is necessary to resolve public issues: John Wesley
ٹرمپ کے کردار پر مودی کو وضاحت دینی چاہیے، پہلگام حملے پر پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا جائے، عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد ضروری :جان ویسلی

حیدرآباد/ہنمکنڈہ:-28/مئی
(دستور نیوز ڈاٹ کام)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان فائر بندی کا معاہدہ ان کے دباؤ کے بعد ہوا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے ریاستی سیکریٹری جان ویسلی نے وزیرِاعظم نریندر مودی سے وضاحت طلب کی ہے۔ انہوں نے بدھ کے روز سی پی آئی (ایم) کے ضلعی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے اس دعوے نے ملک کے عوام کو شرمندگی میں مبتلا کر دیا ہے، اور مودی کی خاموشی شک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں اور عوام نے آپریشن "سندھور” میں مرکزی حکومت کی حمایت کی، لیکن اب ضرورت ہے کہ وزیر اعظم پہلگام واقعے پر پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر عوامی نمائندوں کی رائے حاصل کریں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دہشت گردوں کی گرفتاری نہ ہونا کئی شکوک پیدا کرتا ہے۔
جان ویسلی نے نیتی آیوگ اجلاس میں وزیر اعظم مودی کے بھارت کو دنیا کا چوتھا ترقی یافتہ ملک کہنے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 1 فیصد کارپوریٹ طبقہ 40 فیصد دولت پر قابض ہے، جبکہ 50 فیصد غریب عوام کے پاس صرف 3 فیصد دولت ہے۔ 42 فیصد عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور 30 فیصد کو مناسب غذا بھی دستیاب نہیں ہے۔ مزدور ماہانہ کم از کم تنخواہ 26 ہزار روپے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ ایک لاکھ کسان خودکشی کر چکے ہیں۔ ملک میں معاشی تفاوت تشویشناک ہے، اور مرکزی حکومت کو مساوی ترقی کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔

جان ویسلی نے کہا کہ بائیں بازو کی جماعتوں، دانشوروں اور عوامی تنظیموں کی طرف سے آپریشن "کگار” کو بند کرنے کا مطالبہ نظر انداز کیا جانا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماؤ نوازوں نے فائر بندی اور امن مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی، لیکن مرکزی حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے 2026 تک ماو نوازوں کو ختم کرنے کے بیان پر اعتراض کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ سرکاری فورسز کی جانب سے ماو نواز رہنماؤں کی لاشیں لواحقین کے حوالے نہ کرنا اور لاشوں کے ساتھ رقص کرنا کہاں کی انسانیت ہے؟ انہوں نے کہا کہ مارے گئے 500 افراد میں زیادہ تر قبائلی خواتین شامل تھیں
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے انتخابات میں کیے گئے چھ وعدے ہر صورت پورے کرنے ہوں گے، ورنہ عوام سبق سکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آ کر پیسوں کی کمی کا بہانہ کرنا قابل قبول نہیں۔ بی آر ایس کی حکومت نے وعدے پورے نہ کرنے پر عوام کا غصہ دیکھا، اب کانگریس کو بھی ہوشیار رہنا ہوگا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ سی پی آئی (ایم) عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور عوام سے تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں عوامی مسائل سے یکساں لاپرواہی برت رہی ہیں۔
جان ویسلی نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جو لوگ جھونپڑیاں بنا کر رہ رہے ہیں، انہیں انہی جگہوں پر اندرامّا مکانات دے کر آباد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں 30 لاکھ لوگ بے گھر ہیں۔ ہنمکنڈہ میں غریبوں کی جھونپڑیاں توڑی جا رہی ہیں جبکہ سیاستدانوں کی کوٹھیوں کو ہاتھ نہیں لگایا جا رہا۔ سڑک کنارے کاروبار کرنے والوں کو ہٹانا اور کوئی متبادل نہ دینا سراسر ناانصافی ہے۔پریس کانفرنس میں سی پی آئی (ایم) ریاستی سیکریٹریٹ رکن پوتینینی سدھرشن راؤ، ضلعی سیکریٹری جی پربھاکر ریڈی، ایم. چکّیا، بوٹل چکرپانی، ویرنا، راگول رمیش، گوڑگو وینکٹ، بھانو نائک، کاڈابوئن لنگیا، ڈی. تروپتی، جی. رامولو اور دیگر شریک تھے۔